آگرہ: بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع فیروزآباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر سالگرہ کی تقریب کے بہانے ہوٹل بلائی گئی نوجوان لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کا تعلق اتر پردیش سے تھا اور وہ گڑگاؤں میں ایک کوئیک ای کامرس ڈیلیوری کمپنی میں ملازمت کرتی تھی۔ رکشا بندھن کے موقع پر وہ اپنے آبائی گاؤں جا رہی تھی کہ اس کے سابق ہم جماعت عاشق نے اسے فون کرکے ملاقات کے لیے ہوٹل بلایا۔رپورٹ کے مطابق ملزم کی سالگرہ 26 اگست کو تھی اور اس نے لڑکی کو بہانے سے فیروزآباد کے ایک ہوٹل میں لے جا کر مبینہ طور پر جنسی تحرک پیدا کرنے والی دوا استعمال کی اور اس کے ساتھ زبردستی کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم کے قبضے سے مقتولہ کا موبائل فون اور مذکورہ ادویات کی گولیاں بھی برآمد ہوئیں، جبکہ پوچھ گچھ میں ملزم کی جانب سے جرم کا اعتراف کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 27 اگست کی علی الصبح ملزم نے دوبارہ لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ متاثرہ کی جانب سے مزاحمت پر ملزم نے مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ سر پر شدید چوٹیں اور اندرونی خون بہنا بتائی گئی ہے۔مقتولہ کے والد کی شکایت پر شکوہ آباد تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 103(1) قتل، 64(1) آبروریزی اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔واقعے میں مبینہ طور پر معاونت کرنے والے 24 سالہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔ واقعے کے بعد مقتولہ کے اہل خانہ میں شدید غم و صدمے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
