Baaghi TV

سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی، جس میں درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں 2 رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد بھی وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہوا آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہوتا ہے زمین کے معاوضے کا جھگڑا عوامی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے۔

عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا عدالت نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست بھی پہلے ہی خارج ہو چکی ہے وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

More posts