Baaghi TV

سپریم کورٹ،سندھ ہائیکورٹ کا 2 ہندو نابالغ بچیوں کی کفالت سے متعلق فیصلہ برقرار

supreme

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مستحق افراد کی نشاندہی عدالت کا اختیار، امداد کی رقم اور مدت کا تعین بیت المال کرے گا،

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا 2 ہندو نابالغ بچیوں کی کفالت سے متعلق فیصلہ برقرار رکھا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بیت المال مستحق بچوں کی کفالت کے معاملات دیکھے، ظاہری حالات بیت المال سے رجوع کا تقاضا کریں تو کیس بیت المال کو بھیجا جائے، بیت المال پالیسی اور اہلیت کے معیار کے مطابق درخواست گزار کے حالات کا جائزہ لے،بیت المال کیس کے مطابق امداد کی شکل اور حد کا تعین کرسکتا ہے، عدالت مستحق کیس کو متعلقہ فلاحی ادارے تک پہنچانے کی ہدایت کرسکتی ہے، بیت المال سے رجوع کرنے کا اختیار مستحق افراد کی مدد کا مؤثر طریقہ ہے،بیت المال دونوں نابالغ ہندو بچیوں کو 10،10 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ادا کرے، جیسیکا اور سانیکا کو شادی تک ماہانہ 10 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے،بچیوں کے وظیفے میں سالانہ 10 فیصد اضافہ بھی کیا جائے، کوئی فریق بچیوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھا

فیصلے میں کہا گیا کہ ہندو خاتون ریتا کے شوہر روی کمار نے 2017 میں خودکشی کی تھی،شوہر کی وفات کے بعد ریتا نے اپنی اور دو بیٹیوں کی کفالت کے لیے دادا سے خرچے کا دعویٰ کیا،عمر رسیدہ رام راج کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ اور اپنی رہائش بھی نہیں تھی،فیملی کورٹ نے دونوں نابالغ بچیوں کے لیے 3،3 ہزار روپے ماہانہ نفقہ مقرر کیا تھا،فیملی کورٹ نے بچیوں کے نفقے میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا بھی حکم دیا تھا،رام راج نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،سندھ ہائیکورٹ نے دادا پر نابالغ بچوں کی کفالت کی قانونی ذمہ داری عائد نہ ہونے کا قرار دیا،بیت المال نے سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،بیت المال سے رجوع کرنے کی عدالتی ہدایت میں کوئی قباحت نہیں، بیت المال سے رجوع وہاں کیا جاسکتا ہے جہاں معاملہ اس کے دائرہ کار میں آتا ہو،

More posts