وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی علاقے میں 2 گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے مختلف شہروں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ پر برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ کسی بھی علاقے میں 2 گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ترسیلی مشکلات کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مجبوری میں لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آر ایل این جی کی ترسیل میں پیدا ہونے والے تعطل سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ بجلی کی فراہمی میں بہتری لائی جاسکے۔
دریں اثنا، اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے اور زرعی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے بھی جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام میں زرعی شعبے کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے ملکی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلانے کے لیے مربوط اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے بیرون ملک پاکستانی مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی برآمدات میں اضافے کے لیے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہے۔
شہباز شریف نے فصلوں کی نگرانی کے لیے موبائل ایپ کے استعمال اور اس حوالے سے آگاہی بڑھانے کے لیے مؤثر میڈیا مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافے، زراعت میں جدت لانے، لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور شراکت داری ضروری ہے۔
اجلاس میں زرعی شعبے کے فروغ اور زرعی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
