جاپان کی معروف شپنگ کمپنی مٹسوئی او ایس کے لائنز کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ جہاز مالکان فوری طور پر اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے سفر دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے جاپان کی معروف شپنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوتارو تامورا نے کہا کہ صرف معاہدے کا اعلان کافی نہیں ہوگا بلکہ زمینی حقائق میں بھی واضح تبدیلی نظر آنا ضروری ہے،شپنگ کمپنیوں کو یقین دلانا ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی صورتحال واقعی بہتر ہو چکی ہے اور بحری جہازوں کو کسی قسم کے فوجی یا سلامتی خطرات کا سامنا نہیں رہے گا۔
ان کے مطابق متعلقہ ممالک کے درمیان معاہدے کے عملی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی شپنگ لائنز اعتماد کے ساتھ دوبارہ اس راستے کا استعمال شروع کریں گی معاہدے کو صرف کاغذی شکل میں نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ ہوتے دیکھنا ضروری ہے تاکہ جہاز مالکان اور انشورنس کمپنیاں خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے اور جمعے تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران میں اب سمجھدار قیادت ہے، تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ملاقات کی جس میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے آبنا ئے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکی ہے اور جمعہ تک مکمل طور پر کھل جائے گی معاہدے پر عمل درآمد کی سخت نگرانی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی حالات کے باعث کئی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیشرفت ہے، تاہم عالمی شپنگ انڈسٹر ی ابھی صورتحال کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہی ہے۔
