محکمہ تعلیم سندھ نے والدین سے اضافی اور پوشیدہ فیسیں وصول کرنے والے نجی اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے نئے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت تمام نجی تعلیمی اداروں کو واضح ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف حکومت سے منظور شدہ ٹیوشن فیس وصول کریں اور کسی بھی قسم کے غیر قانونی یا اضافی چارجز لینے سے گریز کریں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز رفیعہ جاوید کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے نوٹس میں آیا ہے کہ بعض نجی اسکول والدین سے منظور شدہ ٹیوشن فیس سے زیادہ رقم وصول کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف عنوانات کے تحت پوشیدہ اور اضافی فیسیں بھی لی جا رہی ہیں، جو سندھ کے مروجہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام نجی اسکول اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ اپنی منظور شدہ فیسوں کی مکمل تفصیلات اسکول کے نوٹس بورڈ پر نمایاں جگہ پر آویزاں کریں تاکہ والدین باآسانی ان کا جائزہ لے سکیں۔ اس کے ساتھ اگر کوئی والدین مطالبہ کریں تو انہیں محکمہ تعلیم کی جانب سے منظور شدہ ٹیوشن فیس سے متعلق سرکاری احکامات کی نقل بھی فراہم کی جائے۔
محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ جو نجی اسکول اضافی، غیر قانونی یا پوشیدہ فیسیں وصول کرتے ہوئے پائے گئے، ان کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد والدین کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانا اور تعلیمی اداروں میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
احکامات میں نجی اسکولوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبہ کے لیے تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں اور محکمہ تعلیم کے مقررہ معیار پر مکمل عمل کریں۔
دوسری جانب محکمہ تعلیم سندھ نے غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کو 15 روز کے اندر اپنی آن لائن رجسٹریشن درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جو اسکول مقررہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے، انہیں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔ ایسے اداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو اسکول بند کرنے کی سفارش کی جائے گی، جبکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ کو قریبی رجسٹرڈ نجی یا سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
اضافی فیسیں لینے والے نجی اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
