Baaghi TV

عمان کے ساتھ عارضی راہداری پر اتفاق کا مطلب آبنائے ہرمز کھولنا نہیں، ایران

ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کے قیام پر اتفاق کا مطلب سمندری راستے کو مکمل طور پر کھولنا نہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 11 کلومیٹر چوڑے دو رویہ عارضی بحری راستے پر اتفاق ہوا ہے،مجوزہ عارضی بحری راستے کا داخلی مقام اور خارجی راستے کا ایک حصہ ایرانی علاقائی پانیوں سے گزرے گا اس عارضی راستے کو فعال کرنے کا مطلب آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو بند کرنا ہے، جسے امریکا نے عمان کے دباؤ پر کھولا تھا، مجوزہ بحری راستے کا نقشہ ایرانی مسلح افواج نے تیار کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں تجارتی اور سمندری آمدورفت برقرار رکھنے کے لیے عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور سمندری حدود سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے مشترکہ منصوبے پر اتفاق کیا ہے،تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کے درمیان ملاقات میں عارضی بحری راہداری کے فریم ورک کو حتمی شکل دی گئی۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی نئے انتظامی فریم ورک میں دونوں ممالک کی خودمختاری کا مکمل احترام یقینی بنایا جانا چاہیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل اور ثابت قدم سفارت کاری جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ اگر کسی بحری جہاز یا کشتی نے دوبارہ بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو اسے فوری طور پر تباہ کردیا جائے گا۔

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی اسپیس فورس آبنائے ہرمز کے ہر حصے اور ایران کی جوہری تنصیبات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور سمندری راستوں میں دوبارہ بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

More posts