آبنائے ہرمز کا بحران عالمی طاقتوں کی کشمکش، غریب عوام کی سزا
تیل کی سیاست اور غربت کا طوفان امریکہ و ایران مذاکرات کی میز پر آئیں
تجزیہ شہزاد قریشی
دنیا کی سیاست میں بعض تنازعات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات ہزاروں میل دور بیٹھے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے۔ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ عالمی توانائی کے اداروں کے مطابق دنیا کی سمندری تجارت کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
جب بھی اس خطے میں تناؤ بڑھتا ہے تو سب سے پہلے پٹرول، ڈیزل اور توانائی کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ وہ ممالک جو پہلے ہی آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں، مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تجارتی ادارے (UNCTAD) نے بھی خبردار کیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ غریب ممالک کے لیے مہنگائی، قرضوں کے بوجھ اور معاشی عدم استحکام میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات خوراک، ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز پر پڑتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی حالات بعض اوقات جرائم، سماجی بے چینی اور معاشرتی مسائل کو بھی جنم دیتے ہیں۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ تیل کے جھٹکے ترقی پذیر ممالک میں کروڑوں افراد کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کر سکتے ہیں۔
امریکہ اور ایران دونوں عالمی سیاست کے اہم کردار ہیں۔ اختلافات اور تنازعات اپنی جگہ، لیکن ان کے فیصلوں کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہتے۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے غریب ممالک بھی ان کے ہر قدم کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی نظریں ان دونوں ممالک پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کشیدگی کے بجائے مذاکرات، تصفیے اور مستقل امن کا راستہ اختیار کریں۔ عالمی مالیاتی فنڈ اور اقوام متحدہ کے ماہرین بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خطے میں استحکام عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اور ایران اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو عالمی توانائی کی رسد اور تجارت کو متاثر کرے۔ کیونکہ جنگوں اور سیاسی کشمکش کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ غریب عوام اٹھاتی ہے۔ وہ عوام جو نہ فیصلوں میں شریک ہوتی ہیں اور نہ ہی تنازعات کا حصہ، لیکن مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی صورت میں سب سے زیادہ قیمت انہی کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
اگر دنیا کے طاقتور ممالک واقعی انسانیت کی فلاح چاہتے ہیں تو انہیں صرف اپنے قومی مفادات ہی نہیں بلکہ ان کروڑوں غریب انسانوں کے مستقبل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، جن کی امیدیں عالمی امن، معاشی استحکام اور سستی توانائی سے وابستہ ہیں۔
