Baaghi TV

آبنائے ہرمز کو 28 فروری سے پہلے والی حیثیت پر فوری طور پر بحال کیا جائے،خلیج تعاون کونسل

خلیج تعاون کونسل کے مشاورتی سربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو 28 فروری سے پہلے والی حیثیت پر فوری طور پر بحال کیا جائے، عالمی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کے ٹیکس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت خلیج تعاون کونسل کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں قطر، عمان، یو اے ای، بحرین اور کویت کے سربراہان شریک ہوئے۔اس موقع پر رہنماؤں نے جی سی سی ممالک اور اردن پر ایرانی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی، جی سی سی رہنماؤں نے بحران کے خاتمے کیلئے سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیا اور کہا کہ عرب ممالک پر ایرانی حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جی سی سی ریاستیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے دفاع کا حق رکھتی ہیں، عرب ریاستیں یکجان ہیں انہیں تقسیم نہیں کیا جاسکتا، کسی ایک ریاست پر حملہ تمام ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔خلیج تعاون کونسل کے مشاورتی اجلاس میں تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا گیا۔

دوسری جانب قطر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے، سمندری گزرگاہ میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں بنتا،قطری دفتر خارجہ کے ترجمان مجید انصاری نے پریس بریفنگ میں کہا کہ قطر پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران میں ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، ایران مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو جوہری پروگرام سے الگ کرے، تو قطر بھی تنازع کے خاتمے کیلئے جامع معاہدے کی حمایت کرے گا۔

علاوہ ازیں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن امریکا معاہدے میں جلد بازی نہیں کرے گا، ایسا معاہدہ قبول نہیں کریں گے جو امریکی قومی سلامتی کیخلاف ہو۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیویٹ کا واضح طور پر کہنا ہے کہ امریکا ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو امریکی قومی سلامتی کیخلاف ہو، مذاکرات اسی صورت آگے بڑھیں گے جب وہ واضح شرائط پر مبنی ہوں۔ترجمان کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔

More posts