واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے پہلی بار عوامی سطح پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔
صدر ٹرمپ نے یہ گفتگو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر کے ہمراہ ملاقات کے دوران کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان بند کمرہ اجلاس بھی ہوا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے منصوبے نے امریکا کو ہفتے کے روز کارروائی پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے انہوں نے اسرائیل کو اقدام پر “مجبور” کیا ہو، نہ کہ اس کے برعکس۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی آپریشن کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ان کے بقول ایران کے پاس “نہ بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، نہ فضائی نگرانی کا نظام اور نہ ہی ریڈار۔”انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران پر حملوں سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کے انخلا کا کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں تھا کیونکہ کارروائی بہت تیزی سے انجام دی گئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے اپنے ہمسایہ ممالک پر جوابی حملوں پر حیران ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کی جانب سے جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا، وہ بھی اس صورتحال پر حیران تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس بعض ہتھیاروں کا “عملاً لامحدود ذخیرہ” موجود ہے اور دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیاں ہنگامی اختیارات کے تحت تیزی سے اسلحہ تیار کر رہی ہیں۔
ٹرمپ نے برطانیہ کو “انتہائی غیر تعاون کرنے والا” قرار دیتے ہوئے جزائر چاگوس کے معاملے پر اختلافات کا ذکر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نیٹو اخراجات کے مسئلے پر اسپین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ان کی درخواست پر تقریباً تمام یورپی ممالک نے دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم اسپین نے ایسا نہیں کیا۔ یاد رہے کہ اسپین کے وزیر اعظم نے گزشتہ برس نیٹو کی اس تجویز کو “غیر معقول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ٹرمپ نے دھمکی دی کہ امریکا اسپین کے ساتھ تجارت محدود کر سکتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکا اور اسپین کے درمیان 47.5 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی، جس میں امریکا کو برآمدات میں برتری حاصل رہی۔اس موقع پر چانسلر فریڈرک مرز نے بھی کہا کہ اسپین واحد ملک ہے جو 5 فیصد دفاعی ہدف سے اتفاق نہیں کر رہا اور جرمنی اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران پر حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے 1979 کے یرغمال بحران اور 1983 میں بیروت میں امریکی میرین بیرکس پر حملے کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کئی دہائیوں سے “دہشت گردی کا سرپرست” رہا ہے اور “کسی نہ کسی کو یہ قدم اٹھانا ہی تھا۔”انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی حالیہ موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ ان کی جگہ کوئی ویسا ہی سخت گیر رہنما آ جائے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ “فی الحال” احتجاج نہ کریں کیونکہ حالات انتہائی خطرناک ہیں اور بمباری جاری ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں ایران میں ایسی قیادت آئے جو اقتدار عوام کو واپس دے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مختصر عرصے میں ہزاروں میزائل تیار کیے، جن میں سے متعدد امریکی کارروائی میں تباہ کر دیے گئے ہیں۔
