سڈنی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کی پابندی کے باوجود 80 فیصد سے زائد بچے اب بھی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے دسمبر 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذ کی تھی۔ اس قانون کے تحت ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، یوٹیوب اور اسنیپ چیٹ سمیت متعدد پلیٹ فارمز پر کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس بنانے یا استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
تاہم نیو کیسل یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قانون پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ تحقیق میں 12 سے 17 سال کی عمر کے 408 بچوں اور نوجوانوں کا جائزہ لیا گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ پابندی کے باوجود کم عمر افراد کی بڑی تعداد بدستور سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہو کہ حکومتی پابندی کے بعد 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال میں نمایاں کمی آئی access ہو۔
تحقیق میں مزید کہا گیا کہ یہ نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ کئی دیگر ممالک بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے آسٹریلیا کے ماڈل پر غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صرف پابندی لگانا بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد سے بچانے کے لیے کافی نہیں، بلکہ مؤثر نگرانی، والدین کی رہنمائی، ڈیجیٹل تعلیم اور مضبوط حفاظتی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔
یہ تحقیق پابندی نافذ ہونے کے بعد ابتدائی تین ماہ کے دوران اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد جاری کی گئی۔
پابندی کے باوجود آسٹریلیا میں ہر 5 میں سے 4 بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، تحقیق
