واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے خواتین کے کھیلوں میں حیاتیاتی جنس کی بنیاد پر شرکت کی اجازت دینے کے تاریخی فیصلے کے بعد ویسٹ ورجینیا کی طالبہ اڈیلیا کراس نے پہلی بار تفصیل سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے انہیں "ذہنی سکون” دیا ہے، کیونکہ اب دوسری لڑکیوں کو وہ مشکلات پیش نہیں آئیں گی جن کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اڈیلیا کراس نے دعویٰ کیا کہ جب وہ برج پورٹ مڈل اسکول میں آٹھویں جماعت کی طالبہ تھیں تو ایک ٹرانس جینڈر طالب علم، جو ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھا، نے لڑکیوں کے لاکر روم میں ان کے ساتھ نامناسب، جنسی نوعیت کے جملے کہے اور انہیں ہراساں کیا۔اڈیلیا کراس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد انہیں یہ احساس ہوا ہے کہ اگرچہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ازالہ ممکن نہیں، لیکن اب ان کی چھوٹی بہن، ان کی دوستوں اور دیگر طالبات کو محفوظ ماحول مل سکے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس طالب علم کے لیے بھی نیک خواہشات رکھتی ہیں اور ان کی دعا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں درست راستہ اختیار کرے۔
اڈیلیا کراس نے بتایا کہ مذکورہ طالب علم کی لڑکیوں کی ٹیم میں شمولیت کے بعد پورے لاکر روم کا ماحول تبدیل ہوگیا تھا۔ان کے مطابق بیشتر طالبات نے لاکر روم میں کپڑے تبدیل کرنا چھوڑ دیے تھے اور وہ واش روم کے بند کیبن یا الگ جگہوں پر کپڑے بدلنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے مقابلوں کے دوران بھی لڑکیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ اس طالب علم سے دور رہیں۔اڈیلیا کراس کے مطابق بعض دیگر اسکولوں کی ٹیموں نے بھی مقابلوں میں شرکت منسوخ کر دی تاکہ ان کی طالبات کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو اپنی نجی جگہوں میں محفوظ محسوس کرنے کا حق حاصل ہے، مگر ان سے یہ حق چھین لیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکن سول لبرٹیز یونین نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤکل اور اس کی والدہ ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔تنظیم کے مطابق اسکول انتظامیہ نے شکایت کی تحقیقات کی تھیں، تاہم الزامات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ادھر اڈیلیا کراس کی نمائندگی کرنے والی قانونی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی مؤکل نے متعدد عدالتی کارروائیوں میں حلف کے ساتھ اپنے مؤقف کو دہرایا ہے اور ان واقعات کے باعث انہیں اپنی پسندیدہ کھیلوں کی سرگرمیاں ترک کرنا پڑیں۔
اڈیلیا کراس اور ان کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے واقعے کی باقاعدہ شکایت اسکول انتظامیہ کو دی تھی، لیکن انہیں کبھی تحقیقات کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ان کے والد کا کہنا تھا کہ شکایت جمع کرانے کے بعد اسکول کی جانب سے کوئی مؤثر جواب نہیں ملا۔رپورٹ کے مطابق متعلقہ اسکول ڈسٹرکٹ سے بھی اس معاملے پر متعدد بار مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر شائع ہونے تک کوئی نیا جواب سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے 30 جون 2026 کو فیصلہ دیا تھا کہ ریاستیں خواتین اور لڑکیوں کے کھیلوں میں شرکت کے لیے حیاتیاتی جنس کو بنیاد بنا سکتی ہیں۔عدالت نے ویسٹ ورجینیا اور آئیڈاہو کی جانب سے بنائے گئے ان قوانین کو برقرار رکھا جن کے تحت خواتین کی کھیلوں کی ٹیموں میں صرف حیاتیاتی طور پر خواتین کو شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
اڈیلیا کراس کا کہنا ہے کہ اس قانونی کامیابی کے باوجود انہیں ذاتی زندگی میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔انہوں نے بتایا کہ ان کے کئی قریبی دوستوں نے ان سے تعلق ختم کر لیا، بعض اساتذہ نے بھی ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جبکہ انہیں دھمکیوں اور شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے اسکول کی اکثریت ان کی حمایت کرتی ہے، لیکن چند مخالف افراد کی مسلسل مخالفت نے ان کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلسل تنازعات اور دباؤ کے باعث وہ گزشتہ دو برس سے کھیلوں سے دور ہیں اور اب اپنے آخری تعلیمی سال میں دوبارہ مقابلوں میں واپسی کا ارادہ نہیں رکھتیں۔
اڈیلیا کراس نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی بار اس معاملے پر عوامی سطح پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا تو وہ صرف 14 برس کی تھیں اور شدید خوف کا شکار تھیں۔ان کے مطابق بائبل کی ایک آیت نے انہیں حوصلہ دیا کہ وہ خاموش رہنے کے بجائے اپنے تجربات دوسروں کے سامنے بیان کریں۔انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ معاشرہ ان لڑکیوں کی بات بھی سنے جو خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
یہ معاملہ امریکہ میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق اور خواتین کے کھیلوں میں ان کی شرکت سے متعلق جاری قومی بحث کا حصہ ہے۔ایک جانب اڈیلیا کراس اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص کھیلوں اور نجی مقامات کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب شہری حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ٹرانس جینڈر طلبہ کو بھی امتیازی سلوک سے پاک، محفوظ اور مساوی تعلیمی ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔ اس مخصوص کیس میں دونوں فریق ایک دوسرے کے مؤقف سے اختلاف رکھتے ہیں اور الزامات و جوابات اپنی اپنی جگہ موجود ہیں
