Baaghi TV

نئے صوبوں کا معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں، قومی مسئلہ ہے، طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ قومی معاملہ ہے، اس پر تمام صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو سنجیدہ مکالمے کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کے ذریعے عوامی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کا مقصد عوام تک وسائل اور بنیادی سہولیات زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر قومی مکالمے کی ضرورت ہے، اس کے مخالفین بھی اپنا مدلل مؤقف قوم کے سامنے رکھیں۔ ایسے اہم قومی معاملے پر اسمبلی میں بحث سے روکنا غیرمنطقی ہوگا، نئے صوبوں سے متعلق بحث اب قومی سطح پر آگے بڑھے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مکالمے کا حصہ بننا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف پہلے بھی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، اس لیے نئے صوبوں جیسے اہم قومی مسئلے پر بات چیت سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ عوام کی رائے اور آئینی و جمہوری طریقہ کار کے مطابق ہی ہوگا، مقصد کسی پر فیصلہ مسلط کرنا نہیں بلکہ ایک اہم قومی مسئلے پر سنجیدہ اور کھلا مکالمہ شروع کرنا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر چار روز سے جاری بحث اختتام پذیر ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد پیش کی، جسے ایوان میں موجود ارکان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

قرارداد میں سندھ کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی یا صوبے کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو مسترد کیا گیا۔ قرارداد پیش کیے جانے سے قبل اپوزیشن ارکان، بالخصوص ایم کیو ایم پاکستان، نے انتظامی یونٹس اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے متعلق تجاویز قرارداد میں شامل نہ کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا۔

اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ بہتر طرز حکمرانی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بحث کے دوران سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مقصد بہتر حکمرانی ہے تو صوبے کی تقسیم کے بجائے انتظامی اصلاحات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

سندھ اسمبلی کی بحث کے تناظر میں طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ کسی ایک جماعت یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ قومی سطح کا مسئلہ ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمانی اور جمہوری مکالمے کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

More posts