امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں-
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تاریخ کا طویل ترین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا، جو تقریباً ایک گھنٹہ 48 منٹ جاری رہا اپنے دوسرے دور صدارت کے پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا ک ہمیں پاکستان اور انڈیا جنگ سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور انڈیا ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں نے 35 ملین انسانوں کی جانیں بچائیں۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر کا بڑا حصہ امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے پر مرکوز رکھا۔انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال 4جولائی کی تقریبات غیر معمولی ہوں گی، ‘ٹیکساس کے سرحدی قصبوں سے لے کر مشی گن کے دیہات تک اور فلوریڈا کے ساحلوں سے ڈکوٹا کے کھلے میدانوں تک، امریکا کا سنہری دور آ چکا ہے،صدر نے اپنی دوسری حلف برداری کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ‘گولڈن ایج’ کا وعدہ پورا کر دکھایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کررہے ہیں، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو ایران میں حکومت نے 32 ہزار مظاہرین کو قتل کیا، ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں، ہم امن بزور طاقت پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے گزشتہ برس کی کارروائی ‘آپریشن مڈنائٹ ہیمر’ کا ذکر کیا جس میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں نے ملک کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا،ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنارہا، تہران نے یہ واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ‘آمرانہ دور کا خاتمہ’ قرار دیا انہوں نے میکسیکو میں بدنام زمانہ منشیات فروش ایل مینچو کی ہلاکت اور جنوبی امریکا کے ساحلی پانیوں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو بھی سراہا ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے امریکا میں منشیات کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔
صدر نے کہا کہ ان کی ‘امن بذریعہ طاقت’ حکمت عملی کے تحت امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج بنایا جا رہا ہے انہوں نے ریپبلکن ارکان کو دفاعی بجٹ میں اضافے پر سراہا اور نیٹو اتحادیوں پر بھی دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ذکر کیا۔
صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکاغیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں، فینٹانائل کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور غیر قانونی سرحدی عبور کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے اسٹاک مارکیٹ نے درجنوں ریکارڈ قائم کیےانہوں نے کہا کہ ‘امریکی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک ایک سال میں ‘تاریخی تبدیلی’ سے گزرا ہے۔
ٹرمپ نے ‘جرائم کے حامی سیاست دانوں’ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کانگریس سے سخت قوانین منظور کرنے کا مطالبہ کیا خطاب کے دوران متعدد ڈیمو کریٹ ارکان نے احتجاج کیاٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ایل گرین کو احتجاجی پلے کارڈ اٹھانے پر ایوان سے باہر لے جایا گیا مینیسوٹا سے کانگریس کی رکن الہان عمر نے بھی نعرے بازی کی،صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ‘دھوکہ دہی کے خلاف جنگ’ کی قیادت سونپنے کا اعلان کیا۔
خطاب کے دوران صدر نے واشنگٹن میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والی نیشنل گارڈ رکن کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور زخمی اہلکار کو ‘پرپل ہارٹ’ تمغہ دینے کا اعلان کیاانہوں نے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی امریکی مردوں کی ہاکی ٹیم کو بھی متعارف کرایا اور گول کیپر کو صدارتی تمغۂ آزادی دینے کا اعلان کیا۔
خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘ریاستِ متحدہ مضبوط ہے، دشمن خوفزدہ ہیں اور امریکا دوبارہ جیت رہا ہےملک ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے،صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔
