امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے بارودی سرنگیں صاف کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کا کنٹرول صرف امریکی بحریہ کے پاس ہے، ہماری ناکہ بندی ناقابل تسخیر رہی ہےیہ فولادی دیوار کی مانند ہے اور ہم صرف ان لوگوں کو داخل ہونے دیتے ہیں جنہیں ہم اجازت دینا چاہتے ہیں، صورتحال کچھ پیچیدہ ہے کیونکہ ایران کبھی کبھار آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھا دیتا ہے، ہم ان بارودی سرنگوں کا سراغ لگا لیتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی تیز کر سکتا ہے امریکا ایران سے پہنچائے گئے نقصانات کا ہرجانہ طلب کرنے جا رہا ہے ایران سے اُن تمام لوگوں کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنہیں متعدد تنازعات میں ہلاک یا زخمی کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد کا کہنا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکا سمجھ چکا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت سے نہیں کھولا جا سکتا، ایران نے دوست ملک اور عمان پر بھی واضح کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جس راستے پر دونوں ملکوں کا اتفاق ہو گا، اس کے علاوہ کسی بھی راستے کو ایران تسلیم نہیں کرے گا۔
