اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت وزیراعظم ہیپاٹائٹس سی پروگرام کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد میں جاری ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ کے پائلٹ مرحلے کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں شروع کیے گئے پائلٹ مرحلے کا بنیادی مقصد عملی طور پر نظام میں موجود خامیوں اور درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا تھا، تاکہ قومی سطح پر پروگرام کے آغاز سے قبل انہیں دور کیا جا سکے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ تمام تکنیکی اور انتظامی مسائل کا مؤثر حل نکال کر آئندہ 15 روز کے اندر نظام کو مکمل طور پر مستحکم کیا جائے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے ایک کروڑ سے زائد مریض موجود ہیں، اس لیے بیماری کی بروقت تشخیص اور فوری علاج انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی بروقت نشاندہی اور علاج سے نہ صرف بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ ہزاروں قیمتی انسانی جانیں بھی بچائی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ حکومت کا قومی نصب العین ہے اور وزیراعظم ہیپاٹائٹس سی پروگرام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ہیپاٹائٹس فری بنانا صرف حکومتی ہدف نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ عزم ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ اسلام آباد میں پروگرام کی کامیابی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور پولی کلینک اسپتال کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوام میں آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ہر شہری اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کرائے۔مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک قابل علاج مرض ہے اور جن افراد میں اس بیماری کی تشخیص ہوگی، ان کا علاج ریاست کی جانب سے مفت فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کے خلاف قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں اور بروقت اسکریننگ کرا کر اپنے اور معاشرے کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں۔
