چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ ہر قیدی کو صحت اور علاج کی سہولت فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے انتخابات متنازع تھے، ہمارے تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوگا،پیپلز پارٹی کے جائز اعتراضات دور کرنے کے لیے ن لیگ نے کوئی کوشش نہیں کی، کیا اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے،عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہر قیدی کو صحت اور علاج کی سہولت فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حکومت کے اعتراضات انہوں نے نہیں دیکھے، اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کریں گے مسلم لیگ ن کے بعض اہم رہنماؤں اور وزرا نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، پیپلزپارٹی نے بھی قیدی کو علاج اور صحت کی سہولت دینا حق قرار دیا ہے بانی پی ٹی آئی سمیت ہر قیدی کو علاج اور طبی سہولیات ملنی چاہییں صحت کے معاملے میں قیدی کے بنیادی حق کو تسلیم کرنا خوش آئند ہےبہتر ہوتا حکومت خود علاج یا طبی معائنے کا انتظام کرتی، سپریم کورٹ کے حکم سے پہلے حکومت کو خود طبی سہولت فراہم کرنی چاہیے تھی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمانی عمل سے دور رہنا بڑی سیاسی کامیابی ہوسکتی ہے، جبکہ اپوزیشن کے پارلیمانی بائیکاٹ کے فیصلے کا کامیاب ہونا اہم پیشرفت ہوگی، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے ملاقاتیں ہوئی ہیں، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی اور چاہتی ہے کہ پارلیمان مکمل طور پر فعال ہو۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ اپوزیشن کی کچھ جماعتوں نے پارلیمانی امور سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا، تاہم پارلیمان کو فعال کرنے کے لیے کمیٹیوں کو فعال کرنا ضروری ہے چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کمیٹیوں کا حصہ بنے اور خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں قائمہ کمیٹیوں میں واپس جائیں،ہم سب پر فرض ہے کہ الیکشن کے عمل کو بہتر بنائیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی پروپوزل ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آیا، تاہم صوبوں سے متعلق پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے عوام کی رضامندی اور اتفاق رائے سے نئے صوبے قائم ہونے چاہییں حکومت تو ہر جگہ یہ کہتی ہے کہ پیپلز پارٹی رکاوٹیں ڈالتی ہے، لیکن عوام کی رائے سے جو بھی فیصلہ ہوگا، پیپلز پارٹی اس کا ساتھ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب پر پارلیمان کے ذریعے پہلے ہی اتفاق رائے موجود ہے اور پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب سے متعلق پارلیمانی اتفاق رائے کے ساتھ کھڑی ہے، پنجاب کے خلاف کسی سازش کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہر صوبے کا اپنا مؤقف ہے اور سندھ کا مؤقف بھی سب کے سامنے ہے،جہاں اتفاق رائے موجود نہیں، وہاں سیاسی جماعتیں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں، عوامی رائے اور اتفاق رائے سے فیصلے کیے جانے چاہئیں۔
