برطانیہ کے شہر لیڈز میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے دس ہزار پاؤنڈ سے زائد مالیت کے مشتبہ جعلی نوٹ برآمد کر لیے اور اس سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق کارروائی ویسٹ یارکشائر پولیس نے آرملے کے علاقے میں ایک رہائشی مکان پر خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی، جہاں سے جعلی کرنسی تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والا سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔
پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران 20 پاؤنڈ مالیت کے جعلی نوٹ، جعلی دستاویزات، نوٹ چھاپنے والی مشینری اور جعلی نوٹوں پر ہولوگرام لگانے کے لیے استعمال ہونے والے خصوصی رولز برآمد ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا سامان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر منظم انداز میں جعلی کرنسی تیار کرنے اور اسے مارکیٹ میں پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
کارروائی کے دوران 28 اور 34 سالہ دو مردوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ایک 34 سالہ خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق خاتون کے خلاف منی لانڈرنگ کے شبے کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد تینوں افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، تاہم ان کے خلاف تحقیقات کا عمل بدستور جاری ہے۔
ویسٹ یارکشائر پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے جعلی نوٹوں اور دیگر شواہد کو فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ جعلی کرنسی کتنے عرصے سے تیار کی جا رہی تھی اور آیا اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان بھی موجود ہیں یا نہیں۔
تحقیقاتی حکام مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں جعلی کرنسی کی تقسیم کا طریقہ کار، ممکنہ خریداروں اور نیٹ ورک کے دیگر رابطوں کی معلومات بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر مزید شواہد سامنے آئے تو اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی مشکوک کرنسی یا جعلی نوٹوں کی خرید و فروخت سے متعلق معلومات حاصل ہوں تو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کریں تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جعلی کرنسی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی تاکہ مالیاتی نظام کو محفوظ بنایا جا سکے۔
برطانیہ میں جعلی کرنسی کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 3 افراد گرفتار
