ایران نے مبینہ طور پر یمن کے حوثی گروپ کو ہدایت کی ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند کرنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔ اس پیش رفت نے پہلے ہی کشیدہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثی گروپ نے باب المندب کے قریب میزائل اور ڈرون تعینات کر دیے ہیں اور وہ صرف حتمی احکامات کے منتظر ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ممکنہ کارروائی کی نگرانی یمن میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندے کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے دو سینئر حکام اور ایک علاقائی ذریعے نے بتایا ہے کہ متعلقہ پیغام حوثی قیادت تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اگرچہ ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے منصوبہ بندی مکمل کی جا چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی متاثر ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے دونوں بڑے بحری راستے بیک وقت دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔ ایسی صورتحال عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور عالمی اقتصادی دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے خلیج اور بحیرہ احمر میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
باب المندب بند کرنے کی تیاری، ایران کا حوثیوں کو امریکی حملے کی صورت میں الرٹ رہنے کا پیغام
