برطانیہ کی ملکہ کمیلا نے پہلی بار اپنی زندگی کے ایک نہایت حساس اور تکلیف دہ واقعے سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کم عمری میں ایک اجنبی شخص کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ انکشاف انہوں نے بی بی سی ریڈیو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا، جس کے بعد برطانوی میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس بیان پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔ملکہ کمیلا نے گفتگو کے دوران بتایا کہ یہ واقعہ ان کی کم عمری کے ایام کا ہے، جب وہ ایک روز ٹرین میں سفر کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق وہ پرسکون انداز میں اپنی نشست پر بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھیں کہ اسی دوران ٹرین میں موجود ایک اجنبی شخص اچانک ان کے قریب آیا اور انہیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ ملکہ کمیلا کے بقول اس غیر متوقع حملے نے انہیں شدید خوفزدہ کر دیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس نازک لمحے میں انہیں اپنی والدہ کی دی گئی نصیحت یاد آئی، جس میں مشکل حالات میں حاضر دماغی اور ہمت سے کام لینے پر زور دیا گیا تھا۔ ملکہ کمیلا نے کہا کہ انہوں نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً اپنا جوتا اتارا اور اس شخص پر دے مارا، جس کے بعد انہوں نے مزاحمت کی اور خود کو محفوظ بنانے کے لیے اگلے اسٹیشن پر ٹرین سے اتر گئیں۔
ملکہ کمیلا کے مطابق اس وقت ان کی عمر تقریباً 16 یا 17 سال تھی، تاہم یہ واقعہ ان کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سانحہ کئی برسوں تک ان کے لیے ذہنی صدمے کا باعث بنا رہا اور اس کی یادیں انہیں طویل عرصے تک پریشان کرتی رہیں۔انٹرویو کے دوران ملکہ کمیلا نے مزید کہا کہ آج بھی جب کہیں گھریلو تشدد یا ہراسانی جیسے موضوعات پر بات ہوتی ہے تو وہ واقعہ ان کے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے، جو انہیں شدید اذیت اور کرب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات متاثرہ افراد کی زندگیوں پر دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
