Baaghi TV

ایران کی جانب سے جواب نہ ملنے پر ٹرمپ برہم

واشنگٹن: ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر مسلسل خاموشی اور جواب میں تاخیر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید برہم ہوگئے تھے، جس کے بعد انہوں نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منظوری دے دی۔

رپورٹ کے مطابق دو سینئر امریکی اہلکاروں نے بتایا کہ ایران پر حملے کا فوری سبب ایک اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کا واقعہ تھا، تاہم اصل پس منظر میں صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی مایوسی شامل تھی کیونکہ ایران نے دو ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود امریکی تجاویز کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا تھا۔امریکی ویب سائٹ کے مطابق کارروائی کا مقصد خطے میں امریکی اثرورسوخ کو بڑھانا تھا، تاہم اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ جانی نقصان نہ ہو تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے دروازے مکمل طور پر بند نہ ہوں۔ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ جب امریکی لڑاکا طیارے اپنے اہداف کی جانب روانہ ہوئے تو ایران کو پیشگی آگاہ کردیا گیا تھا کہ صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اہلکار کے مطابق اگر اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ ہلاک ہو جاتے تو صورتحال کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی دوران قطر ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھا اور قطری حکام تہران کے ساتھ رابطے میں تھے تاکہ مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ حملے سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے ایران سے جواب حاصل کرنے کی ایک اور کوشش کی اور خبردار کیا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔امریکی اہلکاروں کے مطابق ایران نے جواب دیا تھا کہ اس کا ردعمل ابھی تیار نہیں، تاہم یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں مناسب جواب دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز قطری اور ایرانی حکام کی ملاقات کے دوران بھی صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ دیکھیں گے کہ مجوزہ معاہدے کا کیا بنتا ہے۔ امریکی ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ گزشتہ ماہ طے پا سکتا تھا، لیکن 29 مئی کو وائٹ ہاؤس کے سیچوئشن روم میں ہونے والے اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت میں دو ترامیم کی درخواست کر دی تھی، جس کے باعث پیش رفت رک گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور ثالثی کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔

More posts