امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے بعد ایک بار پھر ایرانی حکومت کی تبدیلی کے تصور کو اجاگر کرنا شروع کردیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ گزشتہ کئی ماہ سے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے یہ سوال کرتے رہے ہیں کہ ایرانی عوام اپنی قیادت کے خلاف کیوں نہیں اٹھ رہے۔ جنگ کے آغاز میں بھی ٹرمپ نے ایرانی عوام پر زور دیا تھا کہ وہ حکومت کے خلاف کھڑے ہوں، تاہم بعد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کی کوششوں کے باعث حکومت کی تبدیلی کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا تھا۔جون میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں ایران میں حکومت کی تبدیلی سے کبھی خاص دلچسپی نہیں رہی اور بیرونی حکومتوں کو گرانے کی امریکی کوششیں عموماً کامیاب نہیں ہوتیں۔ تاہم ایران کے ساتھ سفارت کاری رکنے اور آبنائے ہرمز سے تجارتی آمدورفت اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہونے کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنا مؤقف تبدیل کیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ "ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟” جبکہ بدھ کو انہوں نے ایران کے خلاف مزید بڑے حملے کا عندیہ بھی دیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ٹرمپ کی جانب سے اپنے نمائندوں کو ایران کے ساتھ مذاکرات روکنے کی ہدایت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں موجودہ صورتحال میں امریکی پوزیشن پسند ہے اور امریکا کو آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل ہے، جبکہ ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
امریکی انتظامیہ نے ایران کی مالی مشکلات میں اضافے کے لیے پابندیوں اور اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی بھی اختیار کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاشی دباؤ کا ایک مقصد ایران میں حکمرانوں کے خلاف عوامی غصے کو بڑھانا بھی ہوسکتا ہے۔ایران میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی ملک کو درپیش سنگین معاشی مشکلات کا اعتراف کیا ہے۔تاہم امریکی حکام کے مطابق ان حالات کے باوجود ایسی قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات موجود نہیں کہ ایرانی عوام دوبارہ بڑے پیمانے پر سڑکوں پر نکل کر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کئی دہائیوں سے جاری مغربی پابندیاں بھی ایرانی حکومت کو کمزور کرنے میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہوئیں، جبکہ حکومت نے ماضی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو سخت کریک ڈاؤن کے ذریعے کنٹرول کیا ہے۔ایران کے امور کے ماہر حامد رضا عزیزی کے مطابق ایرانی قیادت امریکی معاشی دباؤ کو محض اقتصادی مہم نہیں سمجھتی بلکہ اسے ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تصور کرتی ہے، جس کا مقصد بالآخر ایران میں اندرونی بے چینی پیدا کرنا، حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا یا تہران کو امریکا کے ساتھ بہتر شرائط پر مذاکرات کے لیے مجبور کرنا ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکا یا ممکنہ طور پر سی آئی اے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے خواہشمند مخالفین کو مسلح کرسکتی ہے تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں بتانا پسند کریں گے، تاہم ایسا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔دوسری جانب ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ ایرانی عوام کی مشکلات کو سمجھتے ہیں اور کہا کہ "انہیں اس وقت گولیوں کا سامنا ہے۔”
