نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ خفیہ بریفنگز، اندرونی اختلافات اور ایک طاقتور اتحادی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ کے بعد کیا۔
نیویارک ٹائمز کی کے مطابق فروری 2026 میں بنیامین نیتن یاہونے وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی خفیہ پریزنٹیشن دی، جس میں ایران پر بڑے حملے کا منصو بہ پیش کیا گیا اس بریفنگ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کے سربراہ سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی اور دعویٰ کیا کہ ایران کی قیاد ت کو نشانہ بنا کر اور اس کے میزائل نظام کو تباہ کر کے چند ہفتوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام سب سے پہلے اوول آفس سے متصل کیبنٹ روم میں جمع ہوئے اس کے بعد نیتن یاہو مرکزی تقریب کے لیے نیچے کی طرف روانہ ہوئے: وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے لیے ایران کے بارے میں ایک انتہائی درجہ بندی پریزنٹیشن، جسے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی ملاقاتوں کے لیے شاذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس پریزنٹیشن نے صدر ٹرمپ کو بہت زیادہ متاثر کیا، اور انہوں نے ابتدائی طور پر ہی مثبت اشارہ دے دیا نیتن یاہو کی پریزنٹیشن سے چار مقاصد اخذ کیے گئےجن میں ، ایرانی اعلیٰ قیادت کا قتل، میزائل پروگرام کی تباہی، عوامی بغاوت اٹھانا اور رجیم چینج شامل تھے۔
تاہم بعد میں امریکی انٹیلی جنس نے اس منصوبے کے پہلے دو حصوں کو قابل حصول اور آخری دو حصوں کو “حقیقت سے دور” قرار دیا، خاص طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کے امکان کو مسترد کر دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے اہم اجلاسوں میں شدید اختلافات سامنے آئے۔
