Baaghi TV

ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

neetan

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور آیت اللہ خامنہ ای کو ہدف بنانے کی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے کے بعد دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس حوالے سے انکشاف برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے سے 48 گھنٹے قبل دونو ں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس کال میں انٹیلیجنس معلومات شیئر کی گئی تھیں، جن کے مطابق خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھی تہران میں ایک مقام پر جمع ہونے والے تھے، جسے ڈی کیپیٹیشن اسٹرائیک یعنی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں موقع قرار دیا گیا تھا۔

بعد ازاں نئی معلومات سے پتا چلا کہ یہ ملاقات مقررہ وقت سے پہلے ہفتہ کی صبح منتقل کر دی گئی تھی نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا شاید اس سے بہتر موقع دوبارہ نہ ملے اس فون کال سے قبل ہی ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی اصولی منظوری دے چکے تھے، تاہم وقت اور طریقہ کار کا فیصلہ باقی تھا، بالآخر 27 فروری کو امریکی صدر نے آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا حکم دیا، اور 28 فروری کی صبح ابتدائی حملے کیے گئے، اسی شام ٹرمپ نے خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کردیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس کال پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، بحریہ اور پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا، جبکہ ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ حملے کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کارروائی کے پیچھے انتقامی عنصر موجود تھا، ان کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی جس پر انہوں نے اس کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات پر حملہ کیا تھا، جس میں کئی ایرانی رہنما مارے گئے تھے، بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوگیا تھا اور 12 دن بعد اسے کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد مزید حملوں کی منصوبہ بندی شروع ہوئی، جس کا مقصد ایران کی باقی ماندہ صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔

دسمبر 2025 میں فلوریڈا میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جون کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد نئے حملے پر غور شروع ہوا تھا اگرچہ ٹرمپ سفارتی حل کے خواہاں تھے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فوجی آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جانے لگا۔

جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی امریکی کارروائی نے بھی بڑے فوجی آپریشن کے کم خطرات کا تاثر دیا اسی ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ کردیا تھابعد ازاں امریکا اور اسرائیل کے درمیان خفیہ عسکری مشاورت میں تیزی آئی، جبکہ فروری میں واشنگٹن میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نےایران کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام کو امریکا کے لیے بھی خطرہ قرار دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 24 فروری کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا اور ایران جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے بعد میں یہ خدشات درست ثابت ہوئے۔

اس دوران ٹرمپ کو یہ بھی بریف کیا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کے خاتمے سے ممکن ہے کہ تہران میں کوئی نئی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہو جائے، تاہم سینٹر ل انٹیلیجنس ایجنسی نے اندازہ لگایا تھا کہ خامنہ ای کے بعد سخت گیر قیادت سامنے آئے گی،خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنی ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا،ایرانی پاسداران انقلاب ملک بھر میں گشت کر رہے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد گھروں تک محدود ہے۔

More posts