واشنگٹن: سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتاہوں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جان برینن کا کہنا تھا کہ حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ اپنی تخلیق کردہ شکست سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں ٹرمپ کا یہ مؤقف بھی درست نہیں کہ ایران مذاکرات کے لیے سگنل دے رہا ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، میں صدر ٹرمپ سےزیادہ ایران کی باتوں پریقین کرتاہوں۔ایرانی حکومت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔
قبل ازیں امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔
جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو، صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔
