ایران کا جوہری معاملہ ایک بار پھر سفارتی کشیدگی کی زد میں آگیا، امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق چاروں مغربی طاقتیں عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ میں ایران کے خلاف قرارداد لانے کی کوشش کررہی ہیں۔ مجوزہ قرارداد میں ایران کے جوہری عدم تعاون کے معاملے کو سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
قرارداد منظور ہونے کی صورت میں تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
مجوزہ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ضروری رسائی فراہم کرے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی نہیں دی، جس پر مغربی ممالک اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔
آئی اے ای اے کو ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر بھی شدید تشویش ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس 440.9 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود تھا۔
اگر ایران کے خلاف قرارداد منظور ہوگئی تو جوہری عدم تعاون کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچ سکتا ہے، جس سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
