مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ایران کی جانب سے مسلسل جوابی اقدامات کے باعث ایک طویل اور وسیع علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے پیش نظر امریکا نے خطے میں اپنی فضائی طاقت میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن یورپ میں موجود اپنے فوجی اڈوں سے اضافی ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے۔ اس کے ساتھ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیاروں کی تعداد بھی بڑھائی جا رہی ہے تاکہ امریکی فضائیہ خطے میں طویل دورانیے تک آپریشنز جاری رکھ سکے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مزید اشتعال انگیزی کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ اردن میں ایرانی حملوں کے دوران ہلاک ہونے والے دو امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر تین امریکی سروس ممبران کی ہلاکت نے واشنگٹن میں تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
دریں اثنا ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران محسن نقوی نے ایرانی وزیر داخلہ سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ "اچھی خبر” لے کر آئے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ مختلف ثالثی کرنے والے ممالک کی جانب سے تہران کو نئی تجاویز بھیجی گئی ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
علاوہ ازیں ایران کی جانب سے تازہ میزائل حملوں کے بعد کویتی فوج نے پیر کے روز دوسری مرتبہ "دشمنانہ اہداف” کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ادھر بحرین میں بھی پیر کے روز پانچویں مرتبہ فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے، جس کے بعد ملک بھر میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئلینڈ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی بحری جہازوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے خطے میں ایک اور محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔خطے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث ایئر فرانس نے ریاض اور دبئی کے لیے اپنی تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی نے بیروت آنے اور جانے والی پروازوں کی معطلی میں بھی 2 اگست تک توسیع کر دی ہے۔
ادھر لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں امریکا نے جنوبی لبنان میں "پائلٹ زونز” قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان علاقوں میں مرحلہ وار سکیورٹی کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے کیا جائے گا، جسے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی اضافی فوجی تعیناتی، ایران کی سخت وارننگ، خلیجی ممالک میں بڑھتے ہوئے دفاعی اقدامات اور حوثیوں کی نئی دھمکیوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی برادری سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ خطہ اب بھی ایک بڑے تصادم کے خطرے سے دوچار ہے۔
