امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو امریکہ کے دورے کے دوران "کسی بھی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا”، اور اس حوالے سے سامنے آنے والے بیانات کو مسترد کر دیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ بنیامین نیتن یاہو امریکہ میں "کسی بھی شکل یا صورت میں گرفتار نہیں ہوں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ایران کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، جبکہ ایران پر انہوں نے امریکی فوجیوں اور ہزاروں مظاہرین کی ہلاکتوں کا بھی الزام عائد کیا۔
دوسری جانب نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ستمبر میں نیویارک آتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔برونکس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا وارنٹ گرفتاری موجود ہے، جس میں ان پر مبینہ طور پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ عوامی ریکارڈ کا حصہ ہے، اس لیے ایسے وارنٹ کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ممدانی نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک نیتن یاہو کو دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہیے، جہاں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔
