ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات، نقصانات اور ایرانی عوام پر بہتان لگانے کے لیے امریکی صدر ذمہ دار ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ تازہ ہونے والے ایران مخالف فسادات مختلف تھے جس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھے امریکی مداخلت نے حالات مزید خراب کیےاور ایرانی عوام کو نقصان پہنچایا، امریکا اور اسرائیل کی وجہ سے ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئےایران ملک کو جنگ میں نہیں دھکیلے گا تاہم اندرونی اور بیرونی مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران میں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران یہ خیال کیا جارہا تھا کہ کسی بھی وقت حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائےگا، تاہم ساتھ ہی حکومت کے حامی افراد بھی سڑکوں پر نکل آئے اور اظہار یکجہتی کیا۔
سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر امریکی جریدے کی پاکستان کی حمایت
ادھر ایران نے جی سیون ممالک کے حالیہ بیان کو ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تشدد اور دہشتگردی کے واقعات میں اسرائیلی کردار کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں،وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ردِعمل میں کہا گیا کہ ایران میں ہونے والے پُرامن مظاہروں کو صہیونی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر نے پرتشدد شکل دی، 8 سے 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اکسانے کے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز
ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیاکہ ایران آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے اور شہری آزادیوں کا پابند ہے، تاہم ریاست شہریوں کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
