وفاقی وزیر مذہبی امور سے فلسطین کے اعلیٰ مذہبی وفد نے ملاقات کی-
ملاقات میں قاضی القضا فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش اور مفتی اعظم الشیخ محمد احمد حسین شامل تھے، سردار محمد یوسف نے فلسطینی وفد کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور میں وفد کی آمد باعثِ برکت ہے، غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت پر ہر پاکستانی کا دل دکھی ہے اور حکومتِ پاکستان نے اقوا م متحدہ کے فورم پر متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، بشمول وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ، نے غزہ میں مظالم رکوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے،سردار محمد یوسف نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ القدس کو فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے اور مسلمان مسجدِ اقصیٰ میں آزادی سے عبادت کر سکیں۔
انہوں نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، اور پاکستانی پاسپورٹ پر واضح درج ہے کہ یہ اسرائیل کے لیے قابلِ استعمال نہیں۔
قاضی القضا فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا حالیہ دورہ پاکستان دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا مظہر ہے فلسطینی صدر آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کریں گے جس سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے ایک ہزار سال میں پہلی بار مسلمانوں اور مسیحیوں کے مقدس مقامات کو بند کیا ہے۔
مفتی اعظم فلسطین الشیخ محمد احمد حسین نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی سرپرستی قابلِ مذمت ہے انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اور فلسطین کا مؤقف کبھی جدا نہیں ہو سکتا، اور امید ظاہر کی کہ ایک دن پاکستانی عوام مسجدِ اقصیٰ میں شکرانے کے نوافل ادا کریں گے۔
اس موقع پر سردار محمد یوسف نے حافظ طاہر محمود اشرفی کو چھٹی عالمی پیغامِ اسلام کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد بھی پیش کی، جبکہ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سیرت کانفرنس میں بھی فلسطینی قاضی القضا شریک ہوئے تھے۔
