عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی
صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری سیکیورٹی تھریٹس کے باعث عدالت میں پیش نہ ہو سکیں۔ایڈوکیٹ علی بخاری نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کو سیکیورٹی تھریٹس ہیں، میاں علی اشفاق اور جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو صاحب کے درمیان عظمیٰ بخاری کیس میں جملوں کا تبادلہ ہوا،بیرسٹر میاں علی اشفاق نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جائیں، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے کہیں کہ انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں، آپ عظمیٰ بخاری صاحبہ کو فیور دیتے ہیں، جبکہ میری کلائنٹ فلک جاوید گزشتہ نو ماہ سے جیل میں قید ہیں ،، جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کہا کہ میں کسی کو فیور نہیں کر رہا، میں نے عظمیٰ بخاری کے خلاف کئی مرتبہ سخت آرڈر جاری کیے ،میاں علی اشفاق نے کہا کہ سر، کوئی ایک ایسا آرڈر بتا دیں جس پر عمل درآمد کروا سکے ہوں، فلک جاوید نے کہاکہ اگر عام آدمی عدالت آ سکتا ہے تو صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کیوں نہیں آ سکتیں؟ میاں علی اشفاق نے کہا کہ سیکیورٹی تھریٹ کے باعث عظمیٰ بخاری پیش نہیں ہو سکتیں تو کیا یہ اخذ کرلوں کہ آپ ایک سال تک انہیں فیور دے رہے ہیں؟ عظمیٰ بخاری عدالت میں وکلا اور باہر سیکیورٹی لے کر آتی ہیں، جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کہا کہ میں نے ایک جگہ بھی نہیں کہا کہ عظمیٰ بخاری ٹھیک کر رہی ہیں،
عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے صحافیوں کو عدالتی کارروائی نوٹ کرنے سے روک دیا۔صحافیوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو صاحب سے استفسار کیا کہ سر، پولیس ہمیں عدالتی کارروائی نوٹ کرنے سے روک رہی ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ ثبوت اور شواہد کی کارروائی کے دوران کوئی صحافی کارروائی نوٹ نہیں کرے گا۔اس موقع پر بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ سر، یہ پبلک کورٹ ہے، صحافی عدالتی کارروائی نوٹ کر سکتے ہیں۔ میں اس حوالے سے آپ کو درخواست بھی دے دوں گا۔بیرسٹر میاں علی اشفاق صاحب کی مداخلت کے بعد صحافیوں کو عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے اور نوٹ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
