معروف گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم کو بھارتی حکومت محض دو دن ہی برداشت کر پائی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حقیقی واقعات پر مبنی فلم ستلج بھارت میں ZEE5 نے نشر کی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج تین برس کی تاخیر اور تین ناموں کی تبدیلی کے بعد 3 جولائی 2026 کو بھارت میں ریلیز ہوئی۔ فلم ساز نے سنسر بورڈ کے اعتراضات کو دور کرنے کے لئے پہلے گھلوگھارا، پھر پنجاب ’95 اور آخر میں ستلج رکھا گیا ، تاہم یہ کوشش ناکام رہی، بھارتی حکومت نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر فلم کو بھارت میں زی فائیو سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ فلم ستلج پنجاب میں 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے دوران مبینہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور پولیس کے مبینہ مظالم پر مبنی ہے۔ فلم سکھ انسانی حقوق کارکن جسونت سنگھ خالصہ کی زندگی سے متاثر ہے، جنہوں نے پنجاب ہزاروں گمشدگیوں اور مبینہ ہلاکتوں کی تحقیقات کیں۔ جسونت سنگھ کھالڑہ نے انکشاف کیا تھا کہ پنجاب میں ہزاروں افراد کو ماورائے عدالت قتل کر کے خاموشی سے جلا دیا گیا۔ کھالڑہ نے بلدیاتی ریکارڈز سے 25 ہزار سے زائد ایسے افراد کا سراغ لگایا جنہیں پولیس نے قتل کر کے خاندانوں کو اطلاع دیے بغیر نامعلوم لاشوں کے طور پر جلا دیا۔ جسونت سنگھ کھالڑہ نے اپنی تحقیقات پر پریس کانفرنسیں کیں اور بیرونِ ملک بھی آواز اٹھائی جسونت سنگھ خالصہ کو 1995ء میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا- کھالڑہ کی بیوہ پرمجیت کور کھالڑہ نے انصاف کے حصول کے لئے طویل قانونی جدوجہد کی۔ پرمجیت کور کھالڑہ برسوں سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ پنجاب میں سکھوں کے خلاف مبینہ ریاستی جرائم پر پولیس سربراہ کے پی ایس گل کا بین الاقوامی سطح پر احتساب ہو۔ پنجاب پولیس کریک ڈاؤن کے سربراہ K. P. S. Gill پر کھالڑہ قتل کے حوالے سے کبھی فردِ جرم عائد نہ ہوئی۔ فلم میں سکھوں کی ماورائے عدالت گمشدگیوں اور قتل کے لئے “نسل کشی” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے
