Baaghi TV

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

afghanistan

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں-

پاکستان نے افغانستان میں جو بڑی سرجیکل سٹرائیکس کی ہے ان میں ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈڑوں کی نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں افغان طالبان اگرچہ جواب میں وہی روایتی جذباتی حربے استعمال کر رہے ہیں کہ گھروں ، عورتوں بچوں کو نشانہ بنایا، مسجد کو نشانہ بنایا وغیرہ فیک تصاویر بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ گھسے پٹے حربے ہیں افغان طالبان کے پالے ہوئے ٹی ٹی پی دہشت گرد پاکستان میں مساجد پر حملے کریں، عام آدمیوں کو نشانہ بنائیں، خواتین، بچے شہید ہوں، جوان نشانہ بنیں مگر ان دین کے نام نہاد ٹھیکے داروں طالبان کو کوئی پروا نہیں۔ پاکستان نے سٹرائیک کی تو اب واویلا شروع کر دیا۔

ترجمان طالبان حکومت کی جانب سے یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب افغانستان کے مشرقی علاقوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور کارروائیوں کے بارے میں متعدد مرتبہ دستاویزی شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تشویش ظاہر کی جا چکی ہے پاکستان نے بار بار افغان علاقے سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں خبردار کیا اور طالبان حکومت سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ختم کرے اور نیٹ ورکس کو ختم کرے، جیسا کہ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا۔ متعدد سرکاری و رسمی انتباہات جاری کیے گئے اور سیکیورٹی تعاون کے مکینزم کی تجاویز دی گئیں اس سے قبل کہ کوئی کارروائی کی جا ئے، سفارتی چینلز، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ثالثی کے تمام امکانات استعمال کیے گئے۔

پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ کارروائیاں کیں اور اپنی دفاعی حق کو جواز بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا۔ بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے اصولوں کے مطابق، جب غیر ریاستی عناصر غیر ملکی علاقے سے حملے کرتے ہیں اور میزبان حکومت کارروائی میں ناکام رہتی ہے تو خود دفاع کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے حکمرانی میں ٹی ٹی پی کو زیادہ آزادی اور کارروائی کا موقع ملا ہے، جو ان کی موجودگی کے عوامی انکار کے برعکس ہے دہشت گرد نیٹ ورکس کی مسلسل سرپرستی یا برداشت نے ان کے دوبارہ گروہ بندی اور بیرونی حملوں کو ممکن بنایا ہے۔

طالبان حکومت نے جان بوجھ کر ٹی ٹی پی کو مقامی آبادی میں آباد کیا جب بھی دہشت گردی کا ڈھانچہ نشانہ بنایا جاتا ہے، طالبان حکومت فوری شہری نقصا نا ت کے دعوے کرتی ہے، بغیر کسی شفاف اور آزاد تصدیق کے اس سلسلے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار طالبان حکومت ہے، جس نے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو شہری آبادی میں قائم رہنے دیا،پائیدار امن اور کشیدگی میں کمی محض بیانیہ یا بیانات سے نہیں آئے گی، بلکہ یہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کی شفاف طور پر تحلیل اور سرحد پار سیکیورٹی تعاون کے منظم اقدامات پر منحصر ہے۔

More posts