Baaghi TV

طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

india

طلبہ پر پولیس تشدد کیخلاف بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق صدرکانگریس ملکارجن کھڑگے بھی مظاہرہ میں شریک ہیں، کانگریس رہنما بھارتی وزیراعظم مودی، وزیرتعلیم دھرمیندرا پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں کانگریس رہنما اور بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نہتے کارکنوں اور طالبعلموں پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں جو بچے اور بچیاں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے وہ اپنے بہتر مستقبل اور تعلیم کے حوالے سے جائز مطالبات کر رہے تھے کیونکہ بھارت کا تعلیمی نظام بالکل بوسیدہ ہو چکا ہے اور آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ جما لیا ہے پولیس کی جانب سے اپنے جائز مطالبا ت کے لیے جمع طالبعلموں پر شیلنگ کرنا اور لاٹھی چارج کرنا انتہائی شرمناک ہے اور یہ ایک غیر جمہوری عمل ہے۔

دوسری جانب دہلی ہائیکورٹ نے گزشتہ روز احتجاجی مارچ کے دوران طلبہ پرپولیس تشدد کے خلاف دائر درخواست پرفوری سماعت سے انکار کردیا عدالت نے درخواست پرباقاعدہ سماعت بدھ کو مقرر کردی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔

واضح‌ رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پولیس اور سول کپڑوں میں موجود افراد نے نئی دہلی میں اپنے حقوق کے لیے جنتر منتر پر جمع ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑ کے اور لڑکیوں پر بدترین تشدد کیا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔

یہ تحریک مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش بڑے عوامی چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے احتجاج کی بنیادی وجہ حالیہ امتحانی اسکینڈلز ہیں، جنہوں نے بھار ت کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان د ینا پڑا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے آن لائن مارکنگ سسٹم پر بھی تنازع سامنے آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں روزگار کے محدود مواقع اور بار بار سامنے آنے والے امتحانی تنازعات نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی اہم وجوہات بن رہے ہیں۔

More posts