سرگودھا میں سات سال کی معصوم بچی منتہی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی اور پھر اسے بے دردی سے قتل کرنے والا مرکزی ملزم ارسلان پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا-
اہل خانہ کے مطابق دوسری جماعت کی طالبہ 7 سالہ منتہی چند روز قبل اپنے گھر سے قریبی دکان پر کھانے پینے کی کوئی چیز لینے کے لیے نکلی تھی لیکن پھر واپس نہیں آئی جب بچی دکان سے لاپتا ہوئی تو انہوں نے اس کی تلاش شروع کی، جس کے بعد دکان کے اوپر بنے کمرے سے اس کی بے جان لاش ملی،رات گئے معصوم منتہا کی نمازِ جنازہ سرگودھا کے مرکزی قبرستان میں ادا کی گئی، جس میں شہریوں اور رشتہ داروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بچی کو دکان پر کام کرنے والے ملازم ورغلا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے ا واقعے نے پورے علاقے میں کہرام مچا دیا اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی پی او صہیب اشرف کی خصوصی ہدایت پر ایک چھ رکنی تفتیشی ٹیم بنائی گئی تھی جس نے ملزم کی تلاش کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مارنے شروع کیے،اسی دوران پولیس نے دکان کے مالک حنیف، اس کے بیٹے اور دیگر مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کا عمل شروع کیا اور ملزم ارسلان کے پرانے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی شروع کر دی گئی تھی،جو بعد ازاں پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا-
