Baaghi TV

عالمی سطح پر سونے کی قیمت کا نیا ریکارڈ قائم

gold

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

سونے کی فی اونس قیمت 5097 کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، گزشتہ روز سونے کے نرخ میں 109 ڈالر کا بڑا اضافہ ہوا دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز نے سونے کی قیمت سے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی اونس قیمت 5,400 ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

پاکستان میں بھی سونے کے نرخ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں گزشتہ روز بھی سونے کے نرخ میں 10900 کا بڑا اضافہ ہوا جس کے بعد فی تولہ قیمت 5 لاکھ 32 ہزار 62 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،پاکستان میں چاندی کی قیمت نے بھی تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، فی تولہ قیمت 11428 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کریکشن کے باعث سونے کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تاہم اسکے برعکس چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رہامقامی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 1ہزار 500روپے کی کمی سے 5لاکھ 30ہزار 562روپے کی سطح پر آگئی،فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 1ہزار 286روپے کی کمی سے 4لاکھ 54ہزار 871روپے کی سطح پر آگئی۔

اسی طرح فی عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 12سینٹس کے اضافے سے 111 ڈالر 65سینٹس کی بلند ترین سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 212روپے کے اضافے سے 11ہزار 640روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 182روپے کے اضافے سے 9 ہزار 979روپے کی بلند ترین سطح پر آ

دوسری جانب پرائمری ویژن کے گلوبل مارکیٹ اینڈ پروڈکٹ اسٹریٹجسٹ، سید اسامہ رضوی نے اتوار کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی سطح پر دو اہم محفوظ اثاثے ہیں؛ ایک امریکی ڈالر اور دوسرا سونا۔

سونے کی قیمتوں میں جاری اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے سید اسامہ رضوی نے بتایا کہ تاریخی طور پر جب بھی جغرافیائی سیاسی تناؤ پیدا ہوتا تھا تو امریکہ براہِ راست اثرات سے محفوظ اور الگ تھلگ رہتا تھا اور ایک استحکام پیدا کرنے والے ملک کا کردار ادا کرتا تھا جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر قدر کے ذخیرے کے طور پر اولین انتخاب رہا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس بار خود امریکہ ان جغرافیائی سیاسی تناؤ کے مرکز میں ہے زیادہ تفصیل میں جائے بغیر امریکہ کے معاشی اشاریے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور امریکی ڈالر پر سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی حد تک کم ہوا ہے10 سال پہلے عالمی مرکزی بینکوں کے تقریباً 66 فیصد ذخائر ڈالر میں رکھے جاتے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ آج یہ شرح کم ہوکر 56 فیصد رہ گئی ہے، یعنی 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، نتیجتاً لوگ امریکی ڈالر سے دور ہورہے ہیں اور سونے کی طرف رجوع کر رہے ہیں تاکہ اسے غیر یقینی صورتحال سے بچاؤ کیلئے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرسکیں سونے کے ساتھ ساتھ چاندی نے بھی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے جو قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

اسامہ کا کہنا تھا کہ چاندی ہمیشہ سے ایک اثاثے کے طور پر موجود رہی ہے، لیکن پہلے اسے اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی کیونکہ عالمی لین دین میں امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اب ہم چاندی میں بھی محفوظ سرمایہ کاری کے رجحانات دیکھ رہے ہیں میرا خیال ہے کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

More posts