اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نو منتخب وزیرِاعظم بنگلا دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے ڈھاکہ روانہ ہوگئے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال بنگلا دیش میں اعلیٰ سطحی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے سیاسی، معاشی اور اقتصادی شعبوں میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی،پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ اور مستقبل میں سیاسی و اقتصادی پیش رفت کے روشن امکانات کے لیے پُرامید ہے۔
بنگلا دیش کی حکومت کی جانب سے وزیرِاعظم پاکستان کو نو منتخب وزیرِاعظم بنگلا دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے،وزیرِاعظم پاکستان کے غیر ملکی دورے کے باعث وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال حلف برداری کی تقریب میں حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان منگل کو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے، جبکہ ان کی نئی کابینہ کے ارکان بھی اسی تقریب میں حلف لیں گے۔ دارالحکومت ڈھاکا میں سیاسی حلقوں میں کابینہ کے حجم اور اہم وزارتوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق نئی کابینہ نسبتاً مختصر ہوگی، جس میں قریباً 35 سے 37 ارکان شامل کیے جانے کا امکان ہے ان میں سے 26 سے 27 کو مکمل وزارتیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ 9 سے 10 افراد وزیرِ مملکت ہو سکتے ہیں، آخری وقت میں ایک 2 ناموں کا اضافہ بھی ممکن ہے یہ فیصلہ 2001 کی بی این پی حکومت کے تجربے کی روشنی میں کیا جا رہا ہے، جب قریباً 60 رکنی کابینہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اہم وزارتوں کے لیے جن رہنماؤں کے نام زیر غور ہیں وہ ہیں مرزا فخرالاسلام عالمگیر، امیر خسرو محمود چوہدری، صلاح الدین احمد، حافظ الدین احمد، اور عثمان فاروق۔ اتحادی جماعتوں، ضلعی نمائندوں، نوجوان سیاستدانوں اور ٹیکنوکریٹس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی این پی کے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا انحصار اہل اور بااعتماد شخصیات کے انتخاب پر ہوگا۔ طارق رحمان نے قومی مفاہمت اور سیاسی استحکام پر زور دیا ہے، اور کہا کہ قانون کے سامنے سب شہری برابر ہوں گے۔
