راولپنڈی: مری روڈ پر نجی لیب سے جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ تیار کرنے والا یونٹ پکڑا گیا۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی نے نجی لیب پر کارروائی کرتے ہوئے دستاویزات، جعلی مہریں اور دیگر سامان ضبط کرلیا،محکمہ صحت کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی درخواست پر نجی لیب کے 3 ملازمین کو گرفتار کرکے لیب کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سامان بھی پولیس نے تحویل میں لے لیا۔
محکمہ صحت نے بتایا کہ ملزمان کے پاس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، ملزمان 2600 سے زائد ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرچکے ہیں،جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ساڑھے 7 ہزار روپے کا دیا جاتا تھا۔
اس سے قبل گزشتہ برس بھی لاہور میں عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے والوں کو جعلی ویکسین سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔
پنجاب اب ایک رنگ اور ایک معیار سے پہچانا جائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب
ترجمان ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ برڈ ورڈ روڈ پر فیڈرل ہیلتھ سینٹر میں تعینات ڈاکٹر شہزاد نسیم، نرسنگ اسسٹنٹ اکرم اور جونیئر کلرک شیراز سمیت دیگر نے جعلی ویکسین سرٹیفکیٹ دینے کے لیے عمرے پر جانے والے ایک شہری سے 20ہزار روپے طلب کیے تھے فیڈرل ہیلتھ سینٹر کے ایک ڈاکٹر سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کی گئی تھی، ویکسین سینٹر پر گردن توڑ بخار کی ویکسین لگائے بغیر سرٹیفکیٹ جاری کیےجا رہے تھے۔
جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات، خواتین کرکٹ ٹیم کا کوآرڈینیٹر معطل،تحقیقات شروع
