Baaghi TV

امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو فوجی اسکواڈ فراہم کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے یہ راستہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہےاس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بحریہ کا کہنا ہے کہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے اس لیے فی الحال جہازوں کو فوجی حفاظت فراہم کرنا ممکن نہیں،امریکی بحریہ کا یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے مختلف دکھائی دیتا ہے، ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو فوجی محافظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

پیر کو فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی ٹینکروں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزاریں گے تاہم ابھی تک کسی جہاز کو اسکواڈ نہیں دیا گیا-

امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل ڈین کین نے کہا کہ فوج اس حوالے سے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاہم ایک امریکی اہلکار کے مطابق ابھی تک کسی بھی تجارتی جہاز کو امریکی بحریہ کی طرف سے اسکواڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

رہنما مسلم لیگ ن نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ

اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ جہاز اس راستے سے گزرے ہیں، لیکن زیادہ تر جہاز رانی معطل ہے اور سینکڑوں جہاز سمندر میں لنگر انداز ہو کر انتظار کر رہے ہیں دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی سعودی آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر رہی تو عالمی تیل منڈی کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانا آسان نہیں ایران سمندری بارودی سرنگیں اور کم قیمت حملہ آور ڈرون استعمال کر کے جہاز رانی کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

یورپی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈیز آن دی مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ کے سربراہ عادل باکوان کے مطابق ’فی الحال امریکا، فرانس یا کوئی بھی عالمی اتحاد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘

توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

گزشتہ ہفتے ایران نے مبینہ طور پر بارودی مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی کے ذریعے عراقی پانیوں میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچایا تھا ماہر ین کا کہنا ہے کہ اگر جہازوں کو فوجی اسکواڈ دیا بھی جائے تو تیز رفتار کشتیوں یا ڈرون کے جتھوں کے حملوں کا خطرہ برقرار رہے گا۔

More posts