ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران کے خلاف جارحیت جاری رہے گی کسی قسم کی سیز فائر یا مذاکرات قبول نہیں کیے جائیں گے۔
تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن اپنی مرضی سے جنگ شروع کر کے اپنی مرضی سے جنگ بندی کا اعلان نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم بات دشمن کو واضح اور مضبوط پیغام دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج اس عزم کے ساتھ میدان میں ہیں کہ دشمن کو ایسا سبق سکھایا جائے جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ ترجمان کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ ایران کے خلاف جارحیت کی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ ایسے وقت کیا گیا جب واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے عزائم جارحانہ ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں بڑے پیمانے پر اخراجات ہو رہے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ کے ابتدائی چھ دنوں کے دوران ہی تقریباً 11.3 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
امریکی حکام نے سینیٹرز کو بند کمرے میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ صرف ابتدائی تخمینہ ہے اور اس میں جنگ سے جڑے کئی دیگر اخراجات شامل نہیں، اس لیے مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکی سینیٹر کرس کونز کا کہنا تھا کہ موجودہ اندازوں میں جنگ کے تمام پہلو شامل نہیں اور صرف استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ خریداری کی لاگت ہی 10 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات مسترد کر دیے، جارحیت جاری رہی تو لڑائی بھی جاری رہے گی
