Baaghi TV

ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

ghaza

فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ردعمل کے دوران ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی نہ ہو۔

رائٹرز کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کو ایسا ردعمل اختیار کرنا چاہیے جس سے دیگر ممالک براہِ راست متاثر نہ ہوں ساتھ ہی حماس نے عالمی برادری اور خطے کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دیں جس سے پورا مشرق وسطیٰ ایک بڑے تنازع کی طرف بڑھ جائےمشرق وسطیٰ کے ممالک کو باہمی بھائی چارے اور تعاون کے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔

ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

یاد رہے کہ اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت آرمی چیف، وزیر دفاع، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی شہید ہوگئے تھے جس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس کے باعث دنیا کو تیل کی سپلائی رک گئی ہے

مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب حماس نے ایران کی پالیسیوں کے حوالے سے عوامی سطح پر اس نوعیت کا تبصرہ کیا ہے، اس سے قبل تنظیم جنگ کے دوران ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی ہے، تاہم اب تک اس نے کسی ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی دینے سے گریز کیا تھا۔

دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے یہ کارروائی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔

پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

اسی دوران حوثی تحریک، جو یمن میں سرگرم ہے اور ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے بھی تہران کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس گروپ نے غزہ کی جنگ کے دوران بحیرہ احمر میں اُن جہازوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی تھیں جنہیں وہ اسرائیل سے منسلک سمجھتا تھا، تاہم اب تک اس نے دوبارہ حملے شروع کرنے کی کوئی واضح دھمکی نہیں دی۔

More posts