وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے میں درخت کاٹنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
وزیرِ ہاؤسنگ بلال یاسین کی زیر صدارت پنجاب ہاؤسنگ اتھارٹی کا پہلا بورڈ اجلاس ہوا، جس میں ملک بھر سے 21 ایجنسیز کے ایم ڈیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی،اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی درخت کو کاٹنے سے پہلے پنجاب ہاؤسنگ اتھارٹی کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔
اجلاس کے دوران درختوں کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات کی بھی منظوری دی گئی ہے، اور خصوصی ایپ بھی تیار کی گئی ہے جس کے ذریعے ہر در خت کی جیو ٹیگنگ اور مانیٹرنگ کی جائے گی،بورڈ اجلاس میں نئے لگائے گئے پودوں کی تین سال تک نگرانی کو لازمی قرار دیا گیا ہے ایک درخت کا ٹنے کی صورت میں بیس نئے پودے لگانے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ شجرکاری کے منصوبے محفوظ رہیں۔
سیاسی مفاد کیلئے مودی کی دوغلی پالیسیاں، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار
پنجاب ہاؤسنگ اتھارٹی (پی ایچ اے) نے ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں شجرکاری کا تحفظ اولین ترجیح ہو اور ڈویلپمنٹ پراجیکٹس میں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اس کے ساتھ ہی پبلک پارکس اور گرین ایریاز کے تحفظ کے لیے کمیٹیاں بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے اور ثقافتی پارکس میں ہونے والی سرگرمیاں بھی اتھارٹی کی منظوری سے مشروط ہوں گی۔
اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے درختوں کی سو فیصد مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی،یہ اقدامات ماحولیات کے تحفظ اور شہری سہولیات کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک
