کراچی کے علاقے بنارس کے رہائشی 22 سالہ ابراہیم کو مبینہ طور پر ایجنٹ کی جانب سے سعودی عرب کے ایگریمنٹ ویزے کے نام پر دھوکہ دے کر بیرونِ ملک بھجوا دیا گیا، جہاں وہ بعد ازاں گرفتار ہو گیا۔
متاثرہ نوجوان کے والدین انصاف کے حصول کے لیے پریس کلب پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایجنٹ نے ساڑھے سات لاکھ روپے لے کر دو سالہ ورک ایگریمنٹ ویزہ دینے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اگست 2025 میں جب ابراہیم کو سعودی عرب بھیجا گیا تو وہ ویزہ دراصل وزٹ ویزہ نکلا۔
والدین کے مطابق ابراہیم کو ابتدا میں ایک جگہ مزدوری پر رکھا گیا، لیکن کچھ عرصے بعد اسے نکال دیا گیا جس کے بعد وہ کئی دن تک بے سہارا گھومتا رہا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اسے سعودی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
متاثرہ خاندان نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو فوری طور پر وطن واپس لایا جائے اور ملوث ایجنٹ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ دیگر شہری ایسے فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔
سعودی ویزہ فراڈ: نوجوان گرفتار، والدین انصاف کے لیے پریس کلب پہنچ گئے
