ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے خلیج میں اپنے پڑوسی عرب ممالک کو پیغام دیا ہے کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تجزیے میں ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ جنوبی خلیج فارس میں ہمارے پڑوسیوں کو ایک یاد دہانی کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے بلکہ وہ جنگ کے لیے میدان ہموار کرتے ہیں،خلیج تعاون تنظیم کے اکثر ممالک نے گزشتہ 50 سال سے ایران کے خلاف سیکیورٹی کو فروخت کیا ہوا ہے۔
جواد ظریف نے ماضی میں پیش آنے والے واقعات کا سن وار جائزہ بھی پیش کیا اور بتایا کہ 1980 سے 88 تک صدام حسین کی ایران کے خلاف جنگ پر فنڈز دیے، 1985 میں ایران کی علاقائی سیکیورٹی تجاویز مسترد کردی 1990 سے 1992 کے دوران صدام حسین کے کویت پر مداخلت کو ختم کرنے میں مدد کے بعد ایران پر کشیدگی کا انتخاب کیا، جو ایران کے خلاف ان کے مرکزی مالی معاونت کرنے والے تھے۔
سابق ایرانی وزیرخارجہ نے مزید واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2001 سے آج تک سانپ کا سر کاٹنے کی حکمت عملی اپنائی گئی، 2015 میں ایران کے جارحیت مخالف معاہدے کو مسترد کردیا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بیسز کے لیے ادائیگیاں کیں، 2015 سے آج تک انہوں نے جے او پی او اے کی مخالفت میں لابنگ کی اور ایرانی عوام پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں عوام کی معاشی حالت متاثر ہوئی جبکہ ان کی ذاتی دولت میں اضافہ ہوا۔
جواد ظریف نے حوالہ دیا کہ 2019 میں ہرمز امن معاہدہ مسترد کردیا گیا اور ایران پر پابندیوں کی حمایت کی گئی ہے جس سے ایران کے لیے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہوجائےآج انہوں نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ میں دیگر تمام اتحادیوں سے بڑھ کر مدد کے لیے جلدی کی جبکہ اس کے بدلے انہیں ذلیل کیا گیا اور اسرائیل کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی چلاجائے گا لیکن ایران یہاں ہمیشہ رہے گا، سیکیورٹی سب کو ملنی چاہیے۔
