ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ چین خاموشی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک میں بڑی توسیع کر رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر دکھاتی ہیں کہ جہاں کبھی بستیاں آباد تھیں، وہاں اب بلند و بالا عمارتیں اور ایسے گنبد نما ڈھانچے تعمیر ہو چکے ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس نئی جوہری فیسیلیٹی کو ’سائٹ 906‘ نام دیا گیا ہے۔
چین کے صوبہ سیچوان کے ایک دور افتادہ گاؤں کے مکینوں نے جب حکومت سے اپنی زمینوں پر قبضے اور بے دخلی کی وجہ پوچھی تو انہیں صرف یہ جوا ب ملا کہ یہ ایک ریاستی راز ہے۔ اب ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہےکہ اس راز کا تعلق چین کے ان خفیہ منصوبوں سے ہے جن کے تحت وہ خاموشی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک میں بڑی توسیع کر رہا ہے۔
ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام
سی این این کی تحقیقات کے مطابق سیچوان کے علاقے میں واقع ایک جوہری اڈے میں ایک بہت بڑا گنبد تعمیر کیا گیا ہے جس کا رقبہ 13 ٹینس کورٹس کے برابر ہے اس مضبوط کنکریٹ اور اسٹیل کے ڈھانچے میں ریڈیشن مانیٹر اور دھماکہ پروف دروازے نصب کیے گئے ہیں تاکہ یورینیم اور پلوٹونیم جیسے تابکار مواد کو محفوظ رکھا جا سکے۔
مڈل بیری کالج کے ممتاز اسکالر جیفری لیوس نے سی این این سے گفتگو میں ان تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت چین کے مستقبل کے عزا ئم کے بارے میں امریکا کے بدترین خدشات کی عکاسی کرتی ہے، اس کمپلیکس کی ازسرنو تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلا حیت میں بہت بڑا اضافہ ہونے والا ہے چین کے اس جوہری پروگرام کا مرکز زیتونگ کاؤنٹی کا علاقہ ہے جہاں کئی خفیہ اڈوں کو نئی سڑکوں کے ذریعے آ پس میں جوڑ دیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس
سیچوان صوبے میں سائٹس کی توسیع، جس کا مشاہدہ سیٹلائٹ کی تصویروں میں کیا گیا ہے اور چینی حکومت کے درجنوں دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حالیہ دعووں کی تائید کرتا ہے کہ بیجنگ دہائیوں میں اپنی سب سے اہم جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کی مہم چلا رہا ہے۔
ٹرمپ اگلے ماہ بیجنگ کا ایک تاریخی دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ چینی رہنما شی جن پنگ کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ایک معاہدے کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سال کے شروع میں، روس اور امریکہ کے درمیان ہتھیاروں میں کمی کا تازہ ترین معاہدہ – جسے نیو اسٹارٹ کے نام سے جانا جاتا ہے – کی میعاد ختم ہوگئی، ٹرمپ ماسکو کے ساتھ ایک نیا اور بہتر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں چین بھی شامل ہوگا
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک
سی این اے کارپوریشن کے نیوکلیئر تجزیہ کار ڈیکر ایویلتھ کا کہنا ہے کہ اس جدید کاری کی وسعت بتاتی ہے کہ پورے نظام کی ٹیکنالوجی میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے اب مغرب کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ چین کتنے ایٹمی ہتھیار پیدا کر سکتا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق چین دنیا میں سب سے تیزی سے جوہری ہتھیار تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور اس کے ذخائر اب فرانس سے بھی تجاوز کر گئے ہیں، حالانکہ وہ ابھی بھی امریکا اور روس کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے۔
دوسری جانب چینی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین صرف اپنے دفاع کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور وہ جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے۔
ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے
تاہم کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو ٹونگ ژاؤ کا ماننا ہے کہ چینی قیادت کا خیال ہے کہ ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ مغربی ممالک پر نفسیاتی اثر ڈال سکتا ہے اور انہیں ابھرتے ہوئے چین کی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران میں جاری حالیہ جنگ نے چین کے اس عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کو کمزور نہ پڑنے دے۔
