امریکا ایران جنگ بندی کے ممکنہ خاتمے اور امن معاہدے کے نہ ہونے کی صورت میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دی وہیں ایران نے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ایران فوری طور پر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، کویت اور قطر کے اہم تنصیبات پر حملہ کرے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی مراکز، صنعتی تنصیبات یا دیگر قومی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو پورے خلیجی خطے میں موجود حساس اقتصادی اور تزویراتی تنصیبات بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔ ان ممکنہ اہداف میں تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں، بجلی گھر، ڈیٹا سینٹرز، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور عسکری اڈے شامل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو عالمی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور کویت دنیا کے بڑے توانائی سپلائر ممالک ہیں۔ ان ممالک میں کسی بھی بڑے حملے سے تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان تک جا سکتی ہیں۔سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان میں متوقع ایران امریکہ مذاکرات کو اس بحران کے حل کی آخری امید سمجھا جا رہا ہے، تاہم موجودہ دھمکی آمیز بیانات نے ان مذاکرات کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
