پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 2,108 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار وفاقی اور صوبائی ایچ آئی وی کنٹرول اداروں کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں، جو ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس خطرناک صورتحال کی کئی بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار ہے، جہاں سرنجز اور دیگر طبی آلات کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی کلینکس میں انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات بھی اس بیماری کے پھیلنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خون کی منتقلی سے قبل مناسب اسکریننگ نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے، جس کے باعث متاثرہ خون کے ذریعے وائرس منتقل ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ مزید برآں، غیر رجسٹرڈ اور غیر مستند معالجین یعنی عطائی ڈاکٹروں کی موجودگی اور ان پر کمزور نگرانی نے بھی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ایچ آئی وی صرف مخصوص خطرے کے شکار گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں سمیت عام آبادی میں بھی پھیل رہا ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرنجز کے ایک بار استعمال کو سختی سے یقینی بنایا جائے، خون کی منتقلی سے قبل جدید معیار کے مطابق مکمل اسکریننگ لازم قرار دی جائے، اور نجی کلینکس کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ غیر معیاری علاج اور بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کی تربیت اور عوامی آگاہی مہم بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ والدین اپنے بچوں کے علاج کے دوران محفوظ طریقہ کار کا مطالبہ کریں اور کسی بھی قسم کی غفلت سے بچا جا سکے۔
پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز میں خطرناک اضافہ
