امریکی ناکابندی اور بڑھتی ہوئی معاشی دباؤ کے باعث ایرانی کرنسی شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے اور ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ کرنسی کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق بدھ کے روز بلیک مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ ریال فی ڈالر تک گر گئی، جو اب تک کی سب سے کم سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تیزی سے گرتی ہوئی قدر کی بڑی وجہ امریکی پابندیاں، خطے میں کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ایران کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے جزوی طور پر الگ کیے جانے اور تیل کی برآمدات پر دباؤ کے باعث ملکی معیشت مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف دو ماہ قبل، جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، اس وقت ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 17 لاکھ ریال کے برابر تھی۔ تاہم موجودہ حالات میں ریال کی قدر میں مزید کمی نے عوام اور کاروباری حلقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
کرنسی کی اس گراوٹ کے نتیجے میں ایران میں مہنگائی میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، کیونکہ درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے روزمرہ استعمال کی چیزیں مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں اور سیاسی کشیدگی میں کمی نہ آئی تو ریال پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
امریکی پابندیوں سے ایرانی ریال تاریخی کم ترین سطح پر گر گیا
