جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں نئے مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شرکت کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق جنوبی کوریا کا صدارتی دفتر اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ملک آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے امریکی قیادت میں شروع کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کا حصہ بن سکتا ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اس مہم کا اعلان کیا تھا صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ان لوگوں، کمپنیوں اور ممالک کو آزاد کرانا ہے جنہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ صرف حالات کے شکار ہوئے ہیں یہ مہم ان ممالک کی درخواست پر شروع کی جا رہی ہے جن کے جہاز اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں اگر اس آپریشن میں کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نہیں چلایا جائے گا ایرانی پارلیمنٹ کے عہدیدار ابراہیم عزیزی نے انتباہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ٹول ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور پاسداران انقلاب کے منظور شدہ راستوں پر چلنا ہوگا۔
اس وقت صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق تقریباً دو ہزار بحری جہازوں پر بیس ہزار کے قریب ملاح پھنسے ہوئے ہیں ان جہازوں پر خوراک، ایندھن اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہےتنظیم کے ڈائریکٹر ڈیمین شیولیئر کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اتنی بڑی تعداد میں ملاحوں کے پھنس جانے کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
