ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ناکہ بندی امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی ہے۔
نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز سب سے زیادہ امریکی جارحیت اور امریکی ناکہ بندی سے متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی نظر میں آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے، تاہم وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا تاکہ محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور امید ہے کہ یہ صورتحال امریکا کی جانب سے عائد کی گئی “غیر قانونی ناکہ بندی” کے خاتمے کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے بیان نے ایک بار پھر خلیج اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، کیونکہ یہ آبی راستہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے تناؤ کے باعث خطے میں بحری سکیورٹی خدشات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھنے کے دعوے کے باوجود خطے میں امریکی اور اتحادی بحری موجودگی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ہم نے نہیں، امریکا نے ناکہ بندی مسلط کی، ایرانی وزیر خارجہ
